قرآن اور رسول صلی اللہ علیہ و آلہ کی زبان میں علیؑ

حوزہ/ اسلام کی تاریخ میں بعض شخصیات ایسی ہیں جن کے بغیر دین کی پوری داستان ادھوری محسوس ہوتی ہے۔ ان کی زندگی صرف ایک فرد کی سوانح نہیں ہوتی بلکہ ایک پورے عہد کی روح بن جاتی ہے۔ ان عظیم شخصیات میں سب سے درخشاں نام امام علی علیہ السلام کا ہے۔

تحریر : مولانا سیدکرامت حسین شعور جعفری

حوزہ نیوز ایجنسی I اسلام کی تاریخ میں بعض شخصیات ایسی ہیں جن کے بغیر دین کی پوری داستان ادھوری محسوس ہوتی ہے۔ ان کی زندگی صرف ایک فرد کی سوانح نہیں ہوتی بلکہ ایک پورے عہد کی روح بن جاتی ہے۔ ان عظیم شخصیات میں سب سے درخشاں نام امام علی علیہ السلام کا ہے۔ تاریخِ اسلام کے اوراق کھول کر دیکھئے تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ اگر اسلام ایک تناور درخت ہے تو علیؑ اس کی وہ مضبوط جڑ ہیں جن سے اس درخت کو استحکام، طاقت اور حیات ملی۔

امام علیؑ کی زندگی کا آغاز ہی غیر معمولی واقعات سے ہوا۔ آپ وہ واحد انسان ہیں جن کی ولادت خانہ کعبہ کے اندر ہوئی۔ یہ واقعہ صرف ایک تاریخی حقیقت نہیں بلکہ ایک معنوی اشارہ بھی ہے۔ گویا قدرت یہ بتا رہی تھی کہ جس شخصیت کی پیدائش خدا کے گھر میں ہو، اس کی پوری زندگی بھی خدا کے دین کی حفاظت اور سربلندی کے لیے وقف ہوگی۔

رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ کو علیؑ سے بچپن ہی سے خاص محبت تھی۔ تاریخ بیان کرتی ہے کہ مکہ میں ایک زمانے میں شدید قحط پڑا۔ اس موقع پر رسول صلی اللہ علیہ و آلہ نے اپنے چچا ابو طالب کی مالی تنگی کو دیکھتے ہوئے علیؑ کو اپنے گھر لے لیا تاکہ ان کی کفالت کا بوجھ کچھ کم ہو جائے۔ یوں علیؑ نے اپنی ابتدائی زندگی رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ کی آغوش میں گزاری۔ یہی وجہ ہے کہ علیؑ نے بعد میں اپنے بچپن کی کیفیت بیان کرتے ہوئے فرمایا: “میں رسول صلی اللہ علیہ و آلہ کے پیچھے اس طرح چلتا تھا جیسے اونٹنی کا بچہ اپنی ماں کے پیچھے چلتا ہے۔” (نہج البلاغہ، خطبہ 192)

یہ جملہ صرف محبت کا اظہار نہیں بلکہ اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ علیؑ نے اخلاق، عبادت، علم اور کردار سب کچھ براہ راست رسول صلی اللہ علیہ و آلہ سے سیکھا۔

جب اسلام کی دعوت کا آغاز ہوا اور رسول صلی اللہ علیہ و آلہ نے توحید کا پیغام پیش کیا تو سب سے پہلے جن لوگوں نے اس دعوت کو قبول کیا ان میں امام علی علیہ السلام کا نام سب سے نمایاں ہے۔ ابن عباس روایت کرتے ہیں: “سب سے پہلے ایمان لانے والے علیؑ تھے۔” (تاریخ طبری، ج2)

اس وقت علیؑ کی عمر زیادہ نہیں تھی، مگر ان کے دل میں حق کی پہچان اور رسول صلی اللہ علیہ و آلہ پر یقین اتنا گہرا تھا کہ انہوں نے بغیر کسی تردد کے اسلام کو قبول کر لیا۔ یہی وہ ایمان تھا جس نے بعد میں علیؑ کو اسلام کا سب سے بڑا محافظ بنا دیا۔

قرآن مجید نے بھی متعدد مواقع پر علیؑ کے کردار اور قربانی کو سراہا ہے۔ ہجرت کی رات کا واقعہ اسلامی تاریخ کا ایک درخشاں باب ہے۔ جب کفارِ مکہ نے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ کو قتل کرنے کا منصوبہ بنایا تو علیؑ نے اپنی جان کی پروا کیے بغیر رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ کے بستر پر سونا قبول کیا۔ یہ صرف ایک بہادری کا کام نہیں تھا بلکہ اپنے وجود کو خدا کے دین کے لیے پیش کرنے کا اعلان تھا۔

اسی واقعہ کے بارے میں قرآن نے فرمایا: وَمِنَ النَّاسِ مَن يَشْرِي نَفْسَهُ ابْتِغَاءَ مَرْضَاتِ اللّٰهِ (البقرہ 207)

ترجمہ: بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں جو اللہ کی رضا حاصل کرنے کے لیے اپنی جان تک قربان کر دیتے ہیں۔

متعدد مفسرین جیسے طبری اور ابن کثیر نے لکھا ہے کہ یہ آیت لیلة المبیت کے موقع پر امام علیؑ کے بارے میں نازل ہوئی۔

اسی طرح ایک اور واقعہ قرآن کی تفسیر میں ذکر کیا جاتا ہے۔ روایت ہے کہ ایک فقیر مسجد میں مدد طلب کر رہا تھا اور اس وقت امام علیؑ نماز میں رکوع کی حالت میں تھے۔ آپ نے اپنی انگوٹھی سائل کو دے دی۔ اس عمل کو قرآن نے یوں بیان کیا:

إِنَّمَا وَلِيُّكُمُ اللّٰهُ وَرَسُولُهُ وَالَّذِينَ آمَنُوا الَّذِينَ يُقِيمُونَ الصَّلَاةَ وَيُؤْتُونَ الزَّكَاةَ وَهُمْ رَاكِعُونَ (المائدہ 55)

ترجمہ: تمہارا ولی صرف اللہ، اس کا رسول اور وہ اہل ایمان ہیں جو نماز قائم کرتے ہیں اور رکوع کی حالت میں زکوٰة دیتے ہیں۔

مشہور مفسرین جیسے زمخشری اور فخر رازی نے لکھا ہے کہ یہ آیت امام علیؑ کے بارے میں نازل ہوئی۔

رسول صلی اللہ علیہ و آلہ نے بھی علیؑ کے مقام اور فضیلت کو بارہا بیان فرمایا۔ ایک مشہور حدیث میں آپ نے فرمایا: “أنا مدينة العلم وعلي بابها”

میں علم کا شہر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہیں۔

(مستدرک حاکم)

یہ حدیث دراصل اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ کے علم تک پہنچنے کا سب سے معتبر راستہ علیؑ کی ذات ہے۔

ایک اور موقع پر رسول صلی اللہ علیہ و آلہ نے فرمایا:

“علي مع الحق والحق مع علي”

علی حق کے ساتھ ہیں اور حق علی کے ساتھ ہے۔

(جامع ترمذی)

یہ جملہ تاریخِ اسلام کا ایک دائمی اصول بن گیا کہ جہاں علیؑ ہوں گے وہاں حق ہوگا۔

پھر وہ تاریخی دن آیا جسے غدیر خم کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ ہزاروں صحابہ کے مجمع میں رسول صلی اللہ علیہ و آلہ نے علیؑ کا ہاتھ بلند کر کے اعلان فرمایا:

“من كنت مولاه فهذا علي مولاه”

جس کا میں مولا ہوں اس کا علی مولا ہے۔ (مسند احمد)

یہ اعلان صرف ایک فضیلت کا بیان نہیں تھا بلکہ امت کے لیے ایک معیار بھی تھا کہ حق اور ہدایت کا راستہ علیؑ سے جدا نہیں ہو سکتا۔

امام علیؑ کی زندگی عبادت، علم، عدالت اور شجاعت کا ایک حسین امتزاج تھی۔ جنگ بدر ہو، احد ہو یا خیبر — ہر میدان میں اسلام کا پرچم علیؑ کے ہاتھ میں بلند نظر آتا ہے۔ خیبر کے دن رسول صلی اللہ علیہ و آلہ نے فرمایا:

“کل میں جھنڈا ایسے شخص کو دوں گا جو اللہ اور رسول سے محبت کرتا ہے اور اللہ اور رسول اس سے محبت کرتے ہیں۔” (صحیح بخاری)

اگلے دن یہ جھنڈا امام علیؑ کے ہاتھ میں تھا اور خیبر کا قلعہ انہی کے ہاتھوں فتح ہوا۔

رسول صلی اللہ علیہ و آلہ نے علیؑ کے بارے میں ایک اور جملہ فرمایا جو محبت اور قربت کا بے مثال اظہار ہے:

“علي مني وأنا من علي”

علی مجھ سے ہیں اور میں علی سے ہوں۔

(جامع ترمذی)

اسلام کی پہلی صدی کی تاریخ گواہی دیتی ہے کہ اگر اسلام کی بنیادوں کو تلاش کیا جائے تو وہاں علیؑ کا کردار ہر جگہ نظر آتا ہے۔ علم میں علیؑ، شجاعت میں علیؑ، عبادت میں علیؑ، عدالت میں علیؑ — گویا دین کے ہر شعبے میں علیؑ کی شخصیت ایک روشن مینار کی طرح دکھائی دیتی ہے۔

لیکن تاریخ کا عجیب اور دردناک پہلو یہ ہے کہ جس شخصیت نے اسلام کو اپنے خون اور قربانیوں سے بچایا

اسی شخصیت کو بعد کے زمانے میں تنہائی اور مظلومیت کا سامنا کرنا پڑا۔

یہ مظلومیت صرف ایک فرد کی مظلومیت نہیں بلکہ حق کی مظلومیت تھی۔

جاری ہے۔۔۔۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha